تہ دام بھي غزل آشنا رہے طائران تو کيا
جو فغاں دلوں ميں تڑپ رہي تھي، نوائے زير لبي رہي
ترا جلوہ کچھ بھي تسلي ناصبور نہ کر سکا
وہ گريہ سحري رہا ، وہي آہ نيم شبي رہي
نہ خدا رہا نہ صنم رہے ، نہ رقيب دير حرم رہے
نہ رہي کہيں اسد اللہي، نہ کہيں ابولہبي رہي
مرا ساز اگرچہ ستم رسيدئہ زخمہ ہائے عجم رہا
وہ شہيد ذوق وفا ہوں ميں کہ نوا مري عربي رہي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا