بھي اے حقيقت منتظر لباس مجاز ميں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہيں مري جبين نياز ميں
طرب آشنائے خروش ہو، تو نوا ہے محرم گوش ہو
وہ سرود کيا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردئہ ساز ميں
تو بچابچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزيز تر ہے آئنہ ساز ميں
دم طوف کرمک شمع نے يہ کہا کہ وہ اثرکہن
نہ تري حکايت سوز ميں، نہ مري حديث گداز ميں
نہ کہيں جہاں ميں اماں ملي، جو اماں ملي تو کہاں ملي
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز ميں
نہ وہ عشق ميں رہيں گرمياں،نہ وہ حسن ميں رہيں شوخياں
نہ وہ غزنوي ميں تڑپ رہي، نہ وہ خم ہے زلف اياز ميں
جو ميں سر بسجدہ ہوا کبھي تو زميں سے آنے لگي صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کيا ملے گا نماز ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا