پھر باد آئي ، اقبال غزل خواں ہو
غنچہ ہے اگر ہو ، گل ہے تو گلستاں ہو
تو خاک کي مٹھي ہے ، اجزا کي حرارت سے
برہم ہو، پريشاں ہو ، وسعت ميں بياباں ہو
تو جنس محبت ہے ، قيمت ہے گراں تيري
کم مايہ ہيں سوداگر ، اس ديس ميں ارزاں ہو
کيوں ساز کے پردے ميں مستور ہو لے تيري
تو نغمہ رنگيں ہے ، ہر گوش پہ عرياں ہو
اے رہرو فرزانہ! رستے ميں اگر تيرے
گلشن ہے تو شبنم ہو، صحرا ہے تو طوفاں ہو
ساماں کي محبت ميں مضمر ہے تن آساني
مقصد ہے اگر منزل ، غارت گر ساماں ہو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا