پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر
چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائي کر
تو جو بجلي ہے تو يہ چشمک پنہاں کب تک
بے حجابانہ مرے سے شناسائي کر
نفس گرم کي تاثير ہے اعجاز حيات
تيرے سينے ميں اگر ہے تو مسيحائي کر
کب تلک طور پہ دريوزہ گرمي مثل کليم
اپني ہستي سے عياں شعلہ سينائي کر
ہو تري کے ہر ذرے سے تعمير حرم
دل کو بيگانہ انداز کليسائي کر
اس گلستاں ميں نہيں حد سے گزرنا اچھا
ناز بھي کر تو بہ اندازئہ رعنائي کر
پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے
پھر جہاں ميں ہوس شوکت دارائي کر
!مل ہي جائے گي کبھي منزل ليلي اقبال
کوئي دن اور ابھي باديہ پيمائي کر
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا