نالہ ہے شوريدہ ترا خام ابھي
اپنے سينے ميں اسے اور ذرا تھام ابھي
پختہ ہوتي ہے اگر مصلحت انديش ہو عقل
ہو مصلحت انديش تو ہے خام ابھي
بے خطر کود پڑا آتش نمردو ميں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھي
عشق فرمودئہ قاصد سے سبک گام عمل
عقل سمجھي ہي نہيں معني پيغام ابھي
شيوئہ عشق ہے آزادي و دہر آشوبي
تو ہے زناري بت خانہء ايام ابھي
عذر پرہيز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقي
ہے ترے دل ميں وہي کاوش انجام ابھي
سعي پيہم ہے ترازوئے کم و کيف حيات
تيري ميزاں ہے شمار سحر و شام ابھي
ابر نيساں! يہ تنک بخشي شبنم کب تک
مرے کہسار کے لالے ہيں تہي جام ابھي
بادہ گردان عجم وہ ، عربي ميري شراب
مرے ساغر سے جھجکتے ہيں مے آشام ابھي
خبر اقبال کي لائي ہے گلستاں سے نسيم
نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا