يہ سرود قمري و فريب گوش ہے
باطن ہنگامہ آباد خاموش ہے
تيرے پيمانوں کا ہے يہ اے مےء مغرب اثر
خندہ زن ساقي ہے، ساري انجمن بے ہوش ہے
دہر کے غم خانے ميں تيرا پتا ملتا نہيں
جرم تھا کيا آفرينش بھي کہ تو روپوش ہے
آہ! دنيا دل سمجھتي ہے جسے، وہ دل نہيں
پہلوئے انساں ميں اک ہنگامہء خاموش ہے
زندگي کي رہ ميں چل، ليکن ذرا بچ بچ کے چل
يہ سمجھ لے کوئي مينا خانہ بار دوش ہے
جس کے دم سے دلي و لاہور ہم پہلو ہوئے
آہ، اے اقبال وہ بلبل بھي اب خاموش ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا