اے باد صبا! کملي والے سے جا کہيو پيغام مرا
قبضے سے امت بيچاري کے ديں بھي گيا، دنيا بھي گئي
يہ موج پريشاں خاطر کو پيغام لب نے ديا
!ہے دور وصال بحر بھي، تو دريا ميں گھبرا بھي گئي
عزت ہے محبت کي قائم اے قيس! حجاب محمل سے
محمل جو گيا عزت بھي گئي، غيرت بھي گئي ليلا بھي گئي
کي ترک تگ و دو قطرے نے تو آبروئے گوہر بھي ملي
آوارگي فطرت بھي گئي اور کشمکش دريا بھي گئي
نکلي تو لب اقبال سے ہے، کيا جانيے کس کي ہے يہ صدا
پيغام سکوں پہنچا بھي گئي ، محفل کا تڑپا بھي گئي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا