ہے اسيري اعتبار افزا جو ہو بلند
قطرئہ نيساں ہے زندان صدف سے ارجمند
مشک اذفر چيز کيا ہے ، اک لہو کي بوند ہے
مشک بن جاتي ہے ہو کر نافہ آہو ميں بند
ہر کسي کي تربيت کرتي نہيں قدرت، مگر
کم ہيں وہ طائر کہ ہيں وقفس سے بہرہ مند
شہپر زاغ و زغن در بند قيد و صيد نيست ''
''ايں سعادت قسمت شہباز و شاہيں کردہ اند
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا