شفق صبح کو دريا کا خرام آئينہ
نغمہ شام کو خاموشي شام آئينہ
برگ آئنہ عارض زبيائے بہار
شاہد مے کے ليے حجلہ جام آئينہ
آئنہ حق اور دل آئنہ حسن
دل انساں کو ترا حسن کلام آئينہ
ہے ترے فکر فلک رس سے کمال ہستي
کيا تري فطرت روشن تھي مآل ہستي
تجھ کو جب ديدئہ ديدار طلب نے ڈھونڈا
تاب خورشيد ميں خورشيد کو پنہاں ديکھا
چشم عالم سے تو ہستي رہي مستور تري
اور عالم کو تري آنکھ نے عرياں ديکھا
حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ايسا
رازداں پھر نہ کرے گي کوئي پيدا ايسا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا