ڈالي گئي جو فصل خزاں ميں شجر سے ٹوٹ
ممکن نہيں ہري ہو سحاب سے
ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے
کچھ واسطہ نہيں ہے اسے برگ و بار سے
ہے تيرے گلستاں ميں بھي فصل خزاں کا دور
خالي ہے جيب زر کامل عيار سے
جو نغمہ زن تھے خلوت اوراق ميں طيور
رخصت ہوئے ترے شجر سايہ دار سے
شاخ بريدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو
ناآشنا ہے قاعدئہ روزگار سے
ملت کے ساتھ رابطہء استوار رکھ
!پيوستہ رہ شجر سے ، اميد بہار رکھ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا