صف بستہ تھے عرب کے جوانان تيغ بند
تھي منتظر حنا کي عروس زمين شام
اک نوجوان صورت سيماب مضطرب
آ کر ہوا امير عساکر سے ہم کلام
اے بوعبيدہ رخصت پيکار دے مجھے
لبريز ہو گيا مرے و سکوں کو جام
بے تاب ہو رہا ہوں فراق رسول ميں
اک دم کي زندگي بھي محبت ميں ہے حرام
جاتا ہوں ميں حضور رسالت پناہ ميں
لے جائوں گا خوشي سے اگر ہو کوئي پيام
يہ ذوق و شوق ديکھ کے پرنم ہوئي وہ آنکھ
جس کي تھي صفت تيغ بے نيام
بولا امير فوج کہ ''وہ نوجواں ہے تو
پيروں پہ تيرے عشق کا واجب ہے احترام
پوري کرے خدائے محمد تري مراد
!کتنا بلند تيري محبت کا ہے مقام
پہنچے جو بارگاہ رسول اميں ميں تو
کرنا يہ عرض ميري طرف سے پس از سلام
ہم پہ کرم کيا ہے خدائے غيور نے
پورے ہوئے جو وعدے کيے تھے حضور نے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا