تعليم پير فلسفہء مغربي ہے يہ
ناداں ہيں جن کو ہستي غائب کي ہے تلاش
پيکر اگر سے نہ ہو آشنا تو کيا
ہے شيخ بھي مثال برہمن صنم تراش
محسوس پر بنا ہے علوم جديد کي
اس دور ميں ہے شيشہ عقائد کا پاش پاش
مذہب ہے جس کا نام، وہ ہے اک خام
ہے جس سے آدمي کے تخيل کو انتعاش
کہتا مگر ہے فلسفہء زندگي کچھ اور
مجھ پر کيا يہ مرشد کامل نے راز فاش
با ہر کمال اند کے آشفتگي خوش است ''
''ہر چند عقل کل شدہ اي بے جنوں مباش
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا