کہاں اقبال تو نے آ بنايا آشياں اپنا
نوا اس باغ ميں کو ہے سامان رسوائي
شرارے وادي ايمن کے تو بوتا تو ہے ليکن
نہيں ممکن کہ پھوٹے اس زميں سے تخم سينائي
کلي زور نفس سے بھي وہاں ہو نہيں سکتي
جہاں ہر شے ہو محروم تقاضائے خود افزائي
قيامت ہے کہ فطرت سو گئي اہل گلستاں کي
نہ ہے بيدار دل پيري، نہ ہمت خواہ برنائي
دل آگاہ جب خوابيدہ ہو جاتے ہيں سينوں ميں
نو اگر کے ليے زہراب ہوتي ہے شکر خائي
نہيں ضبط نوا ممکن تو اڑ جا اس گلستاں سے
کہ اس محفل سے خوشتر ہے کسي صحرا کي تنہائي
ہماں بہتر کہ ليلي در بياباں جلوہ گر باشد ''
''ندارد تنگناے شہر تاب حسن صحرائي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا