کلي سے کہہ رہي تھي ايک دن شبنم گلستاں ميں
رہي ميں ايک مدت غنچہ ہائے باغ رضواں ميں
تمھارے گلستاں کي کيفيت سرشار ہے ايسي
نگہ فردوس در دامن ہے ميري چشم حيراں ميں
سنا ہے کوئي شہزادي ہے حاکم اس گلستاں کي
کہ جس کے نقش پا سے ہوں پيدا بياباں ميں
کبھي ساتھ اپنے اس کے آستاں تک مجھ کو تو لے چل
چھپا کر اپنے دامن ميں برنگ موج بو لے چل
کلي بولي، سرير آرا ہماري ہے وہ شہزادي
درخشاں جس کي ٹھوکر سے ہوں پتھر بھي نگيں بن کر
مگر فطرت تري افتندہ اور بيگم کي شان اونچي
نہيں ممکن کہ تو پہنچے ہماري ہم نشيں بن کر
پہنچ سکتي ہے تو ليکن ہماري شاہزادي تک
کسي دکھ کے مارے کا اشک آتشيں بن کر
نظر اس کي پيام عيد ہے اہل محرم کو
بنا ديتي ہے گوہر غم زدوں کے اشک پيہم کو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا