مرشد کي يہ تعليم تھي اے مسلم شوريدہ سر
لازم ہے رہرو کے ليے دنيا ميں سامان
بدلي زمانے کي ہوا ، ايسا تغير آگيا
تھے جو گراں قميت کبھي، اب ہيں متاع کس مخر
وہ شعلہ روشن ترا ظلمت گريزاں جس سے تھي
گھٹ کر ہوا مثل شرر تارے سے بھي کم تر
شيدائي غائب نہ رہ، ديوانہء موجود ہو
غالب ہے اب اقوام پر معبود حاضر کا اثر
ممکن نہيں اس باغ ميں کوشش ہو بار آور تري
فرسودہ ہے پھندا ترا، زيرک ہے مرغ تيز پر
اس دور ميں تعليم ہے امراض ملت کي دوا
ہے خون فاسد کے ليے تعليم مثل نيشتر
رہبر کے ايما سے ہوا تعليم کا سودا مجھے
واجب ہے صحرا گرد پر تعميل فرمان خضر
ليکن نگاہ نکتہ بيں ديکھے زبوں بختي مري
رفتم کہ خار از پا کشم ،محمل نہاں شد از نظر ''
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا