ايک دن اقبال نے پوچھا کليم طور سے
اے کہ تيرے نقش پا سے وادي سينا
آتش نمرود ہے اب تک جہاں ميں ريز
ہوگيا آنکھوں سے پنہاں کيوں ترا سوز کہن
تھا جواب صاحب سينا کہ مسلم ہے اگر
چھوڑ کر غائب کو تو حاضر کا شيدائي نہ بن
ذوق حاضر ہے تو پھر لازم ہے ايمان خليل
ورنہ خاکستر ہے تيري زندگي کا پيرہن
ہے اگر ديوانہء غائب تو کچھ پروا نہ کر
منتظر رہ وادي فاراں ميں ہو کر خيمہ زن
عارضي ہے شان حاضر ، سطوت غائب مدام
اس صداقت کو محبت سے ہے ربط جان و تن
شعلہ نمرود ہے روشن زمانے ميں تو کيا
شمع خود رامي گدازد درميان انجمن ''
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا