قوم نے پيغام گو تم کي ذرا پروا نہ کي
قدر پہچاني نہ اپنے گوہر يک دانہ کي
آہ! بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبر
غافل اپنے پھل کي شيريني سے ہوتا ہے شجر
آشکار اس نے کيا جو زندگي کا راز تھا
ہند کو ليکن خيالي فلسفے پر ناز تھا
شمع حق سے جو منور ہو يہ وہ محفل نہ تھي
بارش رحمت ہوئي ليکن زميں قابل نہ تھي
آہ! شودر کے ليے ہندوستاں خانہ ہے
انساني سے اس بستي کا دل بيگانہ ہے
برہمن سرشار ہے اب تک مےء پندار ميں
شمع گو تم جل رہي ہے محفل اغيار ميں
بت کدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا
نور ابراہيم سے آزر کا گھر روشن ہوا
پھر اٹھي آخر صدا توحيد کي پنجاب سے
ہند کو اک مرد کامل نے جگايا خواب سے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا