ہوس بھي ہو تو نہيں مجھ ميں ہمت تگ و تاز
حصول جاہ ہے وابستہ مذاق تلاش
ہزار شکر، طبيعت ہے ريزہ کار مري
ہزار شکر، نہيں ہے دماغ فتنہ تراش
مرے سے دلوں کي ہيں کھيتياں سرسبز
جہاں ميں ہوں ميں مثال سحاب دريا پاش
يہ عقدہ ہائے سياست تجھے مبارک ہوں
کہ فيض سے ناخن مرا ہے سينہ خراش
ہوائے بزم سلاطيں دليل مردہ دلي
کيا ہے حافظ رنگيں نوا نے راز يہ فاش
گرت ہوا ست کہ با خضر ہم نشيں باشي ''
''نہاں ز چشم سکندر چو آب حيواں باش
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا