محل ايسا کيا تعمير عرفي کے تخيل نے
تصدق جس پہ حيرت خانہء سينا و فارابي
فضائے پر تحرير کي اس نے نوا ايسي
ميسر جس سے ہيں آنکھوں کو اب تک اشک عنابي
مرے نے يہ اک دن اس کي تربت سے شکايت کي
نہيں ہنگامہ عالم ميں اب سامان بيتابي
مزاج اہل عالم ميں تغير آگيا ايسا
کہ رخصت ہوگئي دنيا سے کيفيت وہ سيمابي
فغان نيم شب شاعر کي بار گوش ہوتي ہے
نہ ہو جب چشم محفل آشنائے لطف بے خوابي
کسي کا شعلہء فرياد ہو ظلمت ربا کيونکر
گراں ہے شب پرستوں پر سحر کي آسماں تابي
صدا تربت سے آئي ، شکوہء اہل جہاں کم گو
نوارا تلخ تر مي زن چو ذوق نغمہ کم يابي ''
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا