صبح جب ميري نگہ سودائي نظارہ تھي
آسماں پر اک شعاع آفتاب آوارہ تھي
!ميں نے پوچھا اس کرن سے ''اے سراپا اضطراب
تيري جان ناشکيبا ميں ہے کيسا اضطراب
تو کوئي چھوٹي سي بجلي ہے کہ جس کو آسماں
کر رہا ہے خرمن اقوام کي خاطر جواں
يہ تڑپ ہے يا ازل سے تيري خو ہے، کيا ہے يہ
رقص ہے، آوارگي ہے، جستجو ہے، کيا ہے يہ''؟
''خفتہ ہنگامے ہيں ميري ہستي خاموش ميں
پرورش پائي ہے ميں نے صبح کي آغوش ميں
مضطرب ہر دم مري تقدير رکھتي ہے مجھے
جستجو ميں لذت تنوير رکھتي ہے مجھے
برق آتش خو نہيں، ميں گو ناري ہوں ميں
مہر عالم تاب کا پيغام بيداري ہوں ميں
سرمہ بن کر چشم انساں ميں سما جائوں گي ميں
نے جو کچھ چھپا رکھا تھا، دکھلائوں گي ميں
تيرے مستوں ميں کوئي جويائے ہشياري بھي ہے
سونے والوں ميں کسي کو ذوق بيداري بھي ہے؟
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا