حرارت ہے بلاکي بادئہ تہذيب حاضر ميں
بھڑک اٹھا بھبوکا بن کے مسلم کا تن خاکي
کيا ذرے کو جگنو دے کے تاب مستعار اس نے
کوئي ديکھے تو شوخي آفتاب جلوہ فرما کي
نئے انداز پائے نوجوانوں کي طبيعت نے
يہ رعنائي ، يہ بيداري ، يہ آزادي ، يہ بے باکي
تغير آگيا ايسا تدبر ميں، تخيل ميں
ہنسي سمجھي گئي گلشن ميں غنچوں کي جگر چاکي
کيا گم تازہ پروازوں نے اپنا آشياں ليکن
مناظر دلکشا دکھلا گئي ساحر کي چالاکي
حيات تازہ اپنے ساتھ لائي لذتيں کيا کيا
رقابت ، خودفروشي ، ناشکيبائي ، ہوسناکي
فروغ شمع نو سے بزم مسلم جگمگا اٹھي
مگر کہتي ہے پروانوں سے ميري کہنہ ادراکي
تو اے ! ايں گرمي ز شمع محفلے داري ''
''چو من در آتش خود سوز اگر سوز دلے داري
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا