اک دن رسول پاک نے اصحاب سے کہا
ديں مال حق ميں جو ہوں تم ميں مالدار
ارشاد سن کے فرط طرب سے عمر اٹھے
اس روز ان کے پاس تھے درہم کئي ہزار
ميں يہ کہہ رہے تھے کہ صديق سے ضرور
بڑھ کر رکھے گا آج قدم ميرا راہوار
لائے غرضکہ مال رسول اميں کے پاس
ايثار کي ہے دست نگر ابتدائے کار
!پوچھا حضور سرور عالم نے ، اے عمر
اے وہ کہ جوش حق سے ترے دل کو ہے قرار
رکھا ہے کچھ عيال کي خاطر بھي تو نے کيا؟
مسلم ہے اپنے خويش و اقارب کا حق گزار
کي عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حق
باقي جو ہے وہ ملت بيضا پہ ہے نثار
اتنے ميں وہ رفيق نبوت بھي آگيا
جس سے بنائے عشق و محبت ہے استوار
لے آيا اپنے ساتھ وہ مرد وفا سرشت
ہر چيز ، جس سے چشم جہاں ميں ہو اعتبار
ملک يمين و درہم و دينار و رخت و جنس
اسپ قمر سم و شتر و قاطر و حمار
بولے حضور، چاہيے فکر عيال بھي
کہنے لگا وہ عشق و محبت کا راز دار
!اے تجھ سے ديدئہ مہ و انجم فروغ گير
!اے تيري ذات باعث تکوين روزگار
پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صديق کے ليے ہے خدا کا رسول بس
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا