ستيزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
مصطفوي سے شرار بولہبي
حيات شعلہ مزاج و غيور و شور انگيز
سرشت اس کي ہے مشکل کشي، طلبي
سکوت شام سے تا نغمہ سحر گاہي
ہزار مرحلہ ہائے فعان نيم شبي
کشا کش زم و گرما، تپ و تراش و خراش
ز خاک تيرہ دروں تا بہ شيشہ حلبي
مقام بست و شکت و فشار و سوز و کشيد
ميان قطرئہ نيسان و آتش عنبي
اسي کشاکش پيہم سے زندہ ہيں اقوام
يہي ہے راز تب و تاب ملت عربي
مغاں کہ دانہء انگور آب مي سازند ''
''ستارہ مي شکنند، آفتاب مي سازند
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا