خوب ہے تجھ کو شعار صاحب ثيرب کا پاس
کہہ رہي ہے زندگي تيري کہ تو مسلم نہيں
جس سے تيرے حلقہء خاتم ميں گردوں تھا اسير
اے سليماں! تيري غفلت نے گنوايا وہ نگيں
وہ نشان سجدہ جو روشن تھا کوکب کي طرح
ہوگئي ہے اس سے اب ناآشنا تيري جبيں
ديکھ تو اپنا عمل، تجھ کو آتي ہے کيا
وہ صداقت جس کي بے باکي تھي حيرت آفريں
تيرے آبا کي نگہ بجلي تھي جس کے واسطے
ہے وہي باطل ترے کاشانہء ميں مکيں
غافل! اپنے آشياں کو آ کے پھر آباد کر
نغمہ زن ہے طور معني پر کليم نکتہ بيں
،سرکشي باہر کہ کردي رام او بايد شدن
،شعلہ ساں از ہر کجا برخاستي ، آنجانشيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا