مذاق ديد سے ناآشنا ہے مري
تري ہے فطرت کي راز داں، پھر کيا
رہين شکوئہ ايام ہے زبان مري
تري مراد پہ ہے دور آسماں، پھر کيا
رکھا مجھے چمن آوارہ مثل موج نسيم
عطا فلک نے کيا تجھ کو آشياں، پھر کيا
فزوں ہے سود سے سرمايہء حيات ترا
مرے نصيب ميں ہے کاوش زياں، پھر کيا
ہوا ميں تيرتے پھرتے ہيں تيرے طيارے
مرا جہاز ہے محروم بادباں، پھر کيا
قوي شديم چہ شد، ناتواں شديم چہ شد
چنيں شديم چہ شد يا چناں شديم چہ شد
بہيچ گونہ دريں گلستاں قرارے نيست
توگر بہار شدي، ما خزاں شديم، چہ شد
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا