اک مرغ سرا نے يہ کہا مرغ ہوا سے
!پردار اگر تو ہے تو کيا ميں نہيں پردار
گر تو ہے ہوا گير تو ہوں ميں بھي ہوا گير
آزاد اگر تو ہے ، نہيں ميں بھي گرفتار
پرواز ، خصوصيت ہر صاحب پر ہے
کيوں رہتے ہيں مرغان ہوا مائل پندار؟
مجروح حميت جو ہوئي مرغ ہوا کي
يوں کہنے لگا سن کے يہ گفتار آزار
کچھ شک نہيں پرواز ميں آزاد ہے تو بھي
حد ہے تري پرواز کي ليکن سر ديوار
واقف نہيں تو ہمت مرغان ہوا سے
تو نشيمن ، انھيں گردوں سے سروکار
تو مرغ سرائي ، خورش از خاک بجوئي
ما در صدد دانہ بہ انجم زدہ منقار
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا