رہيلہ کس قدر ظالم، جو، کينہ پرور تھا
نکاليں شاہ تيموري کي آنکھيں نوک خنجر سے
ديا اہل حرم کو رقص کا فرماں ستم گر نے
يہ انداز ستم کچھ کم نہ تھا آثار محشر سے
!بھلا تعميل اس فرمان غيرت کش کي ممکن تھي
شہنشاہي حرم کي نازنينان سمن بر سے
بنايا آہ! سامان طرب بيدرد نے ان کو
نہاں تھا جن کا چشم مہر و ماہ و اختر سے
لرزتے تھے دل نازک، قدم مجبور جنبش تھے
رواں دريائے خوں ، شہزاديوں کے ديدئہ تر سے
يونہي کچھ دير تک محو نظر آنکھيں رہيں اس کي
کيا گھبرا کے پھر آزاد سر کو بار مغفر سے
کمر سے ، اٹھ کے تيغ جاں ستاں ، آتش فشاں کھولي
سبق آموز تاباني ہوں انجم جس کے جوہر سے
رکھا خنجر کو آگے اور پھر کچھ سوچ کر ليٹا
تقاضا کر رہي تھي نيند گويا چشم احمر سے
بجھائے خواب کے پاني نے اخگر اس کي آنکھوں کے
نظر شرما گئي ظالم کي درد انگيز منظر سے
پھر اٹھا اور تيموري حرم سے يوں لگا کہنے
شکايت چاہيے تم کو نہ کچھ اپنے مقدر سے
مرا مسند پہ سو جانا بناوٹ تھي، تکلف تھا
کہ غفلت دور سے شان صف آرايان لشکر سے
يہ مقصد تھا مرا اس سے ، کوئي تيمور کي بيٹي
مجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے ميرے خنجر سے
مگر يہ راز آخر کھل گيا سارے زمانے پر
حميت نام ہے جس کا، گئي تيمور کے گھر سے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا