يورپ ميں جس گھڑي حق و باطل کي چھڑ گئي
حق خنجر آزمائي پہ مجبور ہو گيا
گرد صليب گرد قمر حلقہ زن ہوئي
شکري حصار درنہ ميں محصور ہو گيا
مسلم سپاہيوں کے ذخيرے ہوئے تمام
روئے اميد آنکھ سے مستور ہو گيا
آخر امير عسکر ترکي کے حکم سے
'آئين جنگ' شہر کا دستور ہوگيا
ہر ہوئي ذخيرہ لشکر ميں منتقل
شاہيں گدائے دانہء عصفور ہو گيا
ليکن فقيہ شہر نے جس دم سني يہ بات
گرما کے مثل صاعقہ طور ہو گيا
ذمي کا مال لشکر مسلم پہ ہے حرام
فتوي تمام شہر ميں مشہور ہو گيا
چھوتي نہ تھي يہود و نصاري کا مال فوج
مسلم ، کے حکم سے مجبور ہوگيا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا