فاطمہ! تو آبروئے امت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تيري مشت کا معصوم ہے
يہ سعادت ، حور صحرائي! تري قسمت ميں تھي
غازيان ديں کي سقائي تري قسمت ميں تھي
يہ جہاد اللہ کے رستے ميں بے تيغ و سپر
ہے جسارت آفريں شوق شہادت کس قدر
يہ کلي بھي اس گلستان خزاں منظر ميں تھي
!ايسي چنگاري بھي يارب، اپني خاکستر ميں تھي
اپنے صحرا ميں بہت آہو ابھي پوشيدہ ہيں
!بجلياں برسے ہوئے بادل ميں بھي خوابيدہ ہيں
فاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تيرے ميں ہے
نغمہ عشرت بھي اپنے نالہ ماتم ميں ہے
رقص تيري خاک کا کتنا نشاط انگيز ہے
ذرہ ذرہ زندگي کے سوز سے لبريز ہے
ہے کوئي ہنگامہ تيري تربت خاموش ميں
پل رہي ہے ايک قوم تازہ اس آغوش ميں
بے خبر ہوں گرچہ ان کي وسعت مقصد سے ميں
آفرينش ديکھتا ہوں ان کي اس مرقد سے ميں
تازہ انجم کا فضائے آسماں ميں ہے ظہور
ديدئہ انساں سے نامحرم ہے جن کي موج نور
جو ابھي ابھرے ہيں ظلمت خانہء ايام سے
جن کي ضو ناآشنا ہے قيد صبح و شام سے
جن کي تاباني ميں انداز کہن بھي، نو بھي ہے
اور تيرے کوکب تقدير کا پرتو بھي ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا