يہ شالامار ميں اک برگ زرد کہتا تھا
گيا وہ موسم جس کا رازدار ہوں ميں
نہ پائمال کريں مجھ کو زائران
انھي کي شاخ نشيمن کي يادگار ہوں ميں
ذرا سے پتے نے بيتاب کر ديا دل کو
چمن ميں آکے سراپا غم بہار ہوں ميں
خزاں ميں مجھ کو رلاتي ہے ياد فصل بہار
خوشي ہو عيد کي کيونکر کہ سوگوار ہوں ميں
اجاڑ ہو گئے عہد کہن کے ميخانے
گزشتہ بادہ پرستوں کي يادگار ہوں ميں
پيام عيش ، مسرت ہميں سناتا ہے
ہلال عيد ہماري ہنسي اڑاتا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا