جوئے سرود آفريں آتي ہے کوہسار سے
پي کے شراب لالہ گوں مے کدئہ سے
مست مے خرام کا سن تو ذرا پيام تو
زندہ وہي ہے کام کچھ جس کو نہيں قرار سے
پھرتي ہے واديوں ميں کيا دخترخوش خرام ابر
کرتي ہے بازياں سبزئہ مرغزار سے
جام شراب کوہ کے خم کدے سے اڑاتي ہے
پست و بلند کرکے طے کھيتوں کو جا پلاتي ہے
شاعر دل نواز بھي بات اگر کہے کھري
ہوتي ہے اس کے فيض سے مزرع زندگي ہري
شان خليل ہوتي ہے اس کے کلام سے عياں
کرتي ہے اس کي قوم جب اپنا شعار آزري
اہل زميں کو نسخہء زندگي دوام ہے
خون جگر سے تربيت پاتي ہے جو سخنوري
گلشن دہر ميں اگر جوئے مے سخن نہ ہو
پھول نہ ہو، کلي نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا