تميز حاکم و محکوم مٹ نہيں سکتي
مجال کيا کہ گداگر ہو شاہ کا ہمدوش
جہاں ميں خواجہ پرستي ہے بندگي کا کمال
رضاے خواجہ طلب کن قباے رنگيں پوش
مگر غرض جو حصول رضائے حاکم ہو
خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش
پرانے طرز عمل ميں ہزار مشکل ہے
نئے اصول سے خالي ہے فکر کي آغوش
مزا تو يہ ہے کہ يوں زير آسماں رہيے
''ہزار گونہ در دہان و لب خاموش''
يہي اصول ہے سرمايہء سکون حيات
''گداے گوشہ نشيني تو حافظا مخروش''
مگر خروش پہ مائل ہے تو ، تو بسم اللہ
''بگير بادئہ صافي، ببانگ چنگ بنوش''
شريک بزم امير و وزير و سلطاں ہو
لڑا کے توڑ دے سنگ ہوس سے شيشہء ہوش
پيام مرشد شيراز بھي مگر سن لے
کہ ہے يہ سر نہاں خانہء ضمير سروش
محل تجلي ست راے انور شاہ ''
''چو قرب او طلبي درصفاے نيت کوش
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا