تو ہيں ہم بھي جوانوں کي ترقي سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتي ہے فرياد بھي ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گي فراغت تعليم
کيا خبر تھي کہ چلا آئے گا الحاد بھي ساتھ
گھر ميں پرويز کے شيريں تو ہوئي نما
لے کے آئي ہے مگر تيشہء فرہاد بھي ساتھ
''تخم ديگر بکف آريم و بکاريم ز نو
کانچہ کشتيم ز خجلت نتواں کرد درو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا