اک پيشوائے قوم نے اقبال سے کہا
کھلنے کو جدہ ميں ہے شفاخانہ حجاز
ہوتا ہے تيري کا ہر ذرہ بے قرار
سنتا ہے تو کسي سے جو افسانہ حجاز
دست جنوں کو اپنے بڑھا جيب کي طرف
مشہور تو جہاں ميں ہے ديوانہ حجاز
دارالشفا حوالي لبطحا ميں چاہيے
نبض مريض پنجہ عيسي ميں چاہيے
ميں نے کہا کہ کے پردے ميں ہے حيات
پوشيدہ جس طرح ہو حقيقت مجاز ميں
تلخابہ اجل ميں جو عاشق کو مل گيا
پايا نہ خضر نے مے عمر دراز ميں
اوروں کو ديں حضور! يہ پيغام زندگي
ميں موت ڈھونڈتا ہوں زمين حجاز ميں
آئے ہيں آپ لے کے شفا کا پيام کيا
!رکھتے ہيں اہل درد مسيحا سے کام کيا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا