ہر نفس اقبال تيرا آہ ميں مستور ہے
سينہ سوزاں ترا فرياد سے معمور ہے
نغمہ اميد تيري بربط ميں نہيں
ہم سمجھتے ہيں يہ ليلي تيرے محمل ميں نہيں
گوش آواز سرود رفتہ کا جويا ترا
اور ہنگامہء حاضر سے بے پروا ترا
قصہ گل ہم نوايان چمن سنتے نہيں
اہل محفل تيرا پيغام کہن سنتے نہيں
اے درائے کاروان خفتہ پا! خاموش رہ
ہے بہت ياس آفريں تيري صدا خاموش رہ
زندہ پھر وہ محفل ديرينہ ہو سکتي نہيں
شمع سے روشن شب دوشينہ ہوسکتي نہيں
ہم نشيں! مسلم ہوں ميں، توحيد کا حامل ہوں ميں
اس صداقت پر ازل سے شاہد عادل ہوں ميں
نبض موجودات ميں پيدا حرارت اس سے ہے
اور مسلم کے تخيل ميں جسارت اس سے ہے
حق نے عالم اس صداقت کے ليے پيدا کيا
اور مجھے اس کي حفاظت کے ليے پيدا کيا
دہر ميں غارت گر باطل پرستي ميں ہوا
حق تو يہ ہے حافظ ناموس ہستي ميں ہوا
ميري ہستي پيرہن عرياني عالم کي ہے
ميرے مٹ جانے سے رسوائي بني آدم کي ہے
قسمت عالم کا مسلم کوکب تابندہ ہے
جس کي تاباني سے افسون سحر شرمندہ ہے
آشکارا ہيں مري آنکھوں پہ اسرار حيات
کہہ نہيں سکتے مجھے نوميد پيکار حيات
کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضي منظر مجھے
ہے بھروسا اپني ملت کے مقدر پر مجھے
ياس کے عنصر سے ہے آزاد ميرا روزگار
فتح کامل کي خبر دتيا ہے جوش کارزار
ہاں يہ سچ ہے چشم بر عہد کہن رہتا ہوں ميں
اہل محفل سے پراني داستاں کہتا ہوں ميں
ياد عہد رفتہ ميري خاک کو اکسير ہے
ميرا ماضي ميرے استقبال کي تفسير ہے
سامنے رکھتا ہوں اس دور نشاط افزا کو ميں
ديکھتا ہوں دوش کے آئينے ميں فردا کو ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا