کيسي پتے کي بات جگندر نے کل کہي
موٹر ہے ذوالفقار علي خان کا کيا خموش
ہنگامہ آفريں نہيں اس کا خرام ناز
مانند برق تيز ، مثال ہوا خموش
ميں نے کہا ، نہيں ہے يہ موٹر پہ منحصر
ہے جادہء حيات ميں ہر تيزپا خموش
ہے پا شکستہ شيوہء فرياد سے جرس
نکہت کا ہے مثال صبا خموش
مينا مدام شورش قلقل سے پا بہ
ليکن مزاج جام خرام آشنا خموش
شاعر کے فکر کو پر پرواز خامشي
!سرمايہ دار گرمي آواز خامشي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا