لبريز ہے شراب حقيقت سے جام ہند
سب فلسفي ہيں خطہء مغرب کے رام ہند
يہ ہنديوں کے فکر فلک رس کا ہے اثر
رفعت ميں آسماں سے بھي اونچا ہے بام ہند
اس ديس ميں ہوئے ہيں ہزاروں ملک سرشت
مشہور جن کے دم سے ہے دنيا ميں نام ہند
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہل سمجھتے ہيں اس کو امام ہند
اعجاز اس ہدايت کا ہے يہي
روشن تر از سحر ہے زمانے ميں شام ہند
تلوار کا دھني تھا ، شجاعت ميں فرد تھا
پاکيزگي ميں ، جوش محبت ميں فرد تھا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا