تھا تخيل جو ہم ميرا
آسماں پر ہوا گزر ميرا
اڑتا جاتا تھا اور نہ تھا کوئي
جاننے والا چرخ پر ميرا
تارے حيرت سے ديکھتے تھے مجھے
راز سر بستہ تھا ميرا
حلقہ صبح و شام سے نکلا
اس پرانے نظام سے نکلا
کيا سناؤں تمھيں ارم کيا ہے
خاتم آرزوئے ديدہ و گوش
شاخ طوبي! پہ نغمہ ريز طيور
بے حجابانہ حور جلوہ فروش
ساقيان جميل جام بدست
پينے والوں ميں شور نوشانوش
دور جنت سے آنکھ نے ديکھا
ايک تاريک خانہ سرد و خموش
طالع قيس و گيسوئے ليلي
اس کي تاريکيوں سے دوش بدوش
خنک ايسا کہ جس سے شرما کر
کرہ زمہرير ہو روپوش
ميں نے پوچھي جو کيفيت اس کي
حيرت انگيز تھا جواب سروش
يہ مقام خنک جہنم ہے
نار سے ، نور سے تہي آغوش
شعلے ہوتے ہيں مستعار اس کے
جن سے لرزاں ہيں مرد عبرت کوش
اہل دنيا يہاں جو آتے ہيں
اپنے انگار ساتھ لاتے ہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا