کيوں ميري چاندني ميں پھرتا ہے تو پريشاں
خاموش صورت ، مانند بو پريشاں
تاروں کے موتيوں کا شايد ہے جوہري تو
مچھلي ہے کوئي ميرے دريائے کي تو
يا تو مري جبيں کا تارا گرا ہوا ہے
رفعت کو چھوڑ کر جو بستي ميں جا بسا ہے
خاموش ہو گيا ہے تار رباب ہستي
ہے ميرے آئنے ميں تصوير خواب ہستي
دريا کي تہ ميں چشم گرادب سو گئي ہے
ساحل سے لگ کے موج بے تاب سو گئي ہے
بستي زميں کي کيسي ہنگامہ آفريں ہے
يوں سو گئي ہے جيسے آباد ہي نہيں ہے
شاعر کا دل ہے ليکن ناآشنا سکوں سے
آزاد رہ گيا تو کيونکر مرے فسوں سے؟
ميں ترے چاند کي کھيتي ميں گہر بوتا ہوں
چھپ کے انسانوں سے مانند سحر روتا ہوں
دن کي شورش ميں نکلتے ہوئے گھبراتے ہيں
عزلت شب ميں مرے اشک ٹپک جاتے ہيں
مجھ ميں فرياد جو پنہاں ہے ، سناؤں کس کو
تپش شوق کا نظارہ دکھاؤں کس کو
برق ايمن مرے سينے پہ پڑي روتي ہے
!ديکھنے والي ہے جو آنکھ ، کہاں سوتي ہے
صفت شمع لحد مردہ ہے محفل ميري
آہ، اے رات! بڑي دور ہے منزل ميري
عہد حاضر کي ہوا راس نہيں ہے اس کو
اپنے نقصان کا احساس نہيں ہے اس کا
ضبط پيغام محبت سے جو گھبراتا ہوں
تيرے تابندہ ستاروں کو سنا جاتا ہوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا