اے چاند! تيرا فطرت کي آبرو ہے
طوف حريم خاکي تيري قديم خو ہے
يہ داغ سا جو تيرے سينے ميں ہے نماياں
عاشق ہے تو کسي کا، يہ داغ آرزو ہے؟
ميں مضطرب زميں پر، بے تاب تو فلک پر
تجھ کو بھي جستجو ہے ، مجھ کو بھي جستجو ہے
انساں ہے شمع جس کي ، محفل وہي ہے تيري؟
ميں جس طرف رواں ہوں ، وہي ہے تيري؟
تو ڈھونڈتا ہے جس کو تاروں کي خامشي ميں
پوشيدہ ہے وہ شايد غوغائے زندگي ميں
استادہ سرو ميں ہے ، سبزے ميں سو رہا ہے
بلبل ميں نغمہ زن ہے ، خاموش ہے کلي ميں
آ ! ميں تجھے دکھاؤں رخسار روشن اس کا
نہروں کے آئنے ميں شبنم کي آرسي ميں
صحرا و دشت و در ميں ، کہسار ميں وہي ہے
انساں کے دل ميں ، تيرے رخسار ميں وہي ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا