کل ايک شوريدہ خواب گاہ نبي پہ رو رو کے کہہ رہا تھا
کہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بنائے ملت مٹا رہے ہيں
يہ زائران حريم مغرب ہزار رہبر بنيں ہمارے
ہميں بھلا ان سے واسطہ کيا جو تجھ سے نا آشنا رہے ہيں
!غضب ہيں يہ 'مرشدان خود بيں تري قوم کو بچائے
بگاڑ کر تيرے مسلموں کو يہ اپني عزت بنا رہے ہيں
سنے گا اقبال کون ان کو ، يہ انجمن ہي بدل گئي ہے
!نئے زمانے ميں آپ ہم کو پراني باتيں سنا رہے ہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا