قافلہ لوٹا گيا صحرا ميں اور ہے دور
اس بياباں يعني بحر خشک کا ساحل ہے دور
ہم ميرے شکار دشنہء رہزن ہوئے
بچ گئے جو ، ہو کے بے دل سوئے بيت اللہ پھرے
!اس بخاري نوجواں نے کس خوشي سے جان دي
موت کے زہراب ميں پائي ہے اس نے زندگي
خنجر رہزن اسے گويا ہلال عيد تھا
'ہائے يثرب' دل ميں ، لب پر نعرہ توحيد تھا
خوف کہتا ہے کہ يثرب کي طرف تنہا نہ چل
شوق کہتا ہے کہ تو مسلم ہے ، بے باکانہ چل
بے زيارت سوئے بيت اللہ پھر جاؤں گا کيا
عاشقوں کو روز محشر منہ نہ دکھلاؤں گا کيا
خوف جاں رکھتا نہيں کچھ دشت پيمائے حجاز
ہجرت مدفون يثرب ميں يہي مخفي ہے راز
گو سلامت محمل شامي کي ہمراہي ميں ہے
عشق کي لذت مگر خطروں کے جاں کاہي ميں ہے
آہ! يہ عقل زياں انديش کيا چالاک ہے
اور تاثر آدمي کا کس قدر بے باک ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا