اس دور ميں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور
ساقي نے بنا کي روش لطف و ستم اور
مسلم نے بھي تعمير کيا اپنا حرم اور
تہذيب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
ان تازہ خداؤں ميں بڑا سب سے وطن ہے
جو پيرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا ہے
يہ بت کہ تراشيدہء تہذيب نوي ہے
غارت گر کاشانہء دين نبوي ہے
بازو ترا توحيد کي قوت سے قوي ہے
اسلام ترا ديس ہے ، تو مصطفوي ہے
نظارہ ديرينہ زمانے کو دکھا دے
!اے مصطفوي ميں اس بت کو ملا دے
ہو قيد مقامي تو نتيجہ ہے تباہي
رہ بحر ميں آزاد وطن صورت ماہي
ہے ترک وطن سنت محبوب الہي
دے تو بھي نبوت کي صداقت پہ گواہي
گفتار سياست ميں وطن اور ہي کچھ ہے
ارشاد نبوت ميں وطن اور ہي کچھ ہے
اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسي سے
تسخير ہے مقصود تجارت تو اسي سے
خالي ہے صداقت سے سياست تو اسي سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسي سے
اقوام ميں مخلوق خدا بٹتي ہے اس سے
قوميت اسلام کے جڑ کٹتي ہے اس سے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا