ہميشہ صورت باد آوارہ رہتا ہوں
محبت ميں ہے سے بھي خوشتر جادہ پيمائي
دل بے تاب جا پہنچا ديار پير سنجر ميں
ميسر ہے جہاں درمان درد نا شکيبائي
ابھي نا آشنائے لب تھا حرف آرزو ميرا
زباں ہونے کو تھي منت پذير تاب گويائي
يہ مرقد سے صدا آئي ، حرم کے رہنے والوں کو
!شکايت تجھ سے ہے اے تارک آئين آبائي
ترا اے قيس کيونکر ہوگيا سوز دروں ٹھنڈا
کہ ليلي ميں تو ہيں اب تک وہي انداز ليلائي
نہ تخم 'لا الہ' تيري زمين شور سے پھوٹا
زمانے بھر ميں رسوا ہے تري فطرت کي نازائي
تجھے معلوم ہے غافل کہ تيري زندگي کيا ہے
کنشتي ساز، معمور نوا ہائے کليسائي
ہوئي ہے تربيت آغوش بيت اللہ ميں تيري
دل شوريدہ ہے ليکن صنم خانے کا سودائي
وفا آموختي از ما، بکار ديگراں کر دي ''
''ربودي گوہرے از ما نثار ديگراں کر دي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا