ہو رہي ہے زير دامان افق سے آشکار
صبح يعني دختر دوشيزہ ليل و نہار
پا چکا فرصت درود فصل انجم سے سپہر
کشت خاور ميں ہوا ہے آفتاب آئينہ کار
آسماں نے آمد خورشيد کي پا کر خبر
محمل پرواز باندھا سر دوش غبار
شعلہء خورشيد گويا حاصل اس کھيتي کا ہے
بوئے تھے دہقان گردوں نے جو تاروں کے شرار
ہے رواں نجم ، جيسے عبادت خانے سے
سب سے پيچھے جائے کوئي عابد شب زندہ دار
کيا سماں ہے جس طرح آہستہ آہستہ کوئي
کھينچتا ہو ميان کي ظلمت سے تيغ آب دار
مطلع خورشيد ميں مضمر ہے يوں مضمون صبح
جيسے خلوت گاہ مينا ميں شراب خوش گوار
ہے تہ دامان باد اختلاط انگيز صبح
شورش ناقوس ، آواز اذاں سے ہمکنار
جاگے کوئل کي اذاں سے طائران نغمہ سنج
ہے ترنم ريز قانون سحر کا تار تار
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا