قمر کا خوف کہ ہے خطرہء تجھ کو
مآل کي کيا مل گئي خبر تجھ کو؟
متاع نور کے لٹ جانے کا ہے ڈر تجھ کو
ہے کيا ہراس فنا صورت شرر تجھ کو؟
زميں سے دور ديا آسماں نے گھر تجھ کو
مثال ماہ اڑھائي قبائے زر تجھ کو
!غضب ہے پھر تري ننھي سي جان ڈرتي ہے
تمام رات تري کانپتے گزرتي ہے
چمکنے والے مسافر! عجب يہ بستي ہے
جو اوج ايک کا ہے ، دوسرے کي پستي ہے
اجل ہے لاکھوں ستاروں کي اک ولادت مہر
فنا کي نيند مے زندگي کي مستي ہے
وداع غنچہ ميں ہے راز آفرينش گل
!عدم ، عدم ہے کہ آئينہ دار ہستي ہے
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے ميں
ثبات ايک تغير کو ہے زمانے ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا