مثال پرتو مے ، طوف جام کرتے ہيں
يہي نماز ادا صبح و شام کرتے ہيں
خصوصيت نہيں کچھ اس ميں اے کليم تري
شجر حجر بھي سے کلام کرتے ہيں
نيا جہاں کوئي اے شمع ڈھونڈيے کہ يہاں
ستم کش تپش ناتمام کرتے ہيں
بھلي ہے ہم نفسو اس ميں خاموشي
کہ خوشنوائوں کو پابند دام کرتے ہيں
غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کي
حلال چيز کو گويا حرام کرتے ہيں
!بھلا نبھے گي تري ہم سے کيونکر اے واعظ
کہ ہم تو رسم محبت کو عام کرتے ہيں
!الہي سحر ہے پيران خرقہ پوش ميں کيا
کہ اک نظر سے جوانوں کو رام کرتے ہيں
ميں ان کي محفل عشرت سے کانپ جاتا ہوں
جو گھر کو پھونک کے دنيا ميں نام کرتے ہيں
!ہرے رہو وطن مازني کے ميدانو
جہاز پر سے تمھيں ہم سلام کرتے ہيں
جو بے نماز کبھي پڑھتے ہيں نماز اقبال
بلا کے دير سے مجھ کو امام کرتے ہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا