يوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے
اک ذرا افسردگي تيرے تماشائوں ميں تھي
پا گئي آسودگي کوئے محبت ميں وہ
مدتوں آوارہ جو حکمت کے صحرائوں ميں تھي
کس قدر اے مے! تجھے رسم حجاب آئي پسند
پردہ انگور سے نکلي تو مينائوں ميں تھي
کي تاثير پر غالب نہ آ سکتا تھا علم
اتني ناداني جہاں کے سارے دانائوں ميں تھي
ميں نے اے اقبال يورپ ميں اسے ڈھونڈا عبث
بات جو ہندوستاں کے ماہ سيمائوں ميں تھي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا