چمک تيري عياں بجلي ميں ، آتش ميں ، شرارے ميں
جھلک تيري ہويدا ميں ،سورج ميں ، تارے ميں
بلندي آسمانوں ميں ، زمينوں ميں تري پستي
رواني بحر ميں ، افتادگي تيري کنارے ميں
شريعت کيوں گريباں گير ہو ذوق تکلم کي
چھپا جاتا ہوں اپنے کا مطلب استعارے ميں
جو ہے بيدار انساں ميں وہ گہري نيند سوتا ہے
شجر ميں ، پھول ميں ، حيواں ميں ، پتھر ميں ، ستارے ميں
مجھے پھونکا ہے سوز قطرہء اشک محبت نے
غضب کي آگ تھي پاني کے چھوٹے سے شرارے ميں
نہيں جنس ثواب آخرت کي آرزو مجھ کو
وہ سوداگر ہوں ، ميں نے نفع ديکھا ہے خسارے ميں
سکوں نا آشنا رہنا اسے سامان ہستي ہے
تڑپ کس دل کي يا رب چھپ کے آ بيٹھي ہے پارے ميں
صدائے لن تراني سن کے اے اقبال ميں چپ ہوں
تقاضوں کي کہاں طاقت ہے مجھ فرقت کے مارے ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا