زمانہ ديکھے گا جب مرے سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
مري خموشي نہيں ہے ، گويا ہے حرف آرزو کا
جو موج دريا لگي يہ کہنے ، سفر سے قائم ہے شان ميري
گہر يہ بولا صدف نشيني ہے مجھ کو سامان آبرو کا
نہ ہو طبيعت ہي جن کي قابل ، وہ تربيت سے نہيں سنورتے
ہوا نہ سرسبز رہ کے پاني ميں عکس سرو کنار جو کا
کوئي دل ايسا نظر نہ آيا نہ جس ميں خوابيدہ ہو تمنا
الہي تيرا جہان کيا ہے نگار خانہ ہے آرزو کا
کھلا يہ مر کر کہ زندگي اپني تھي طلسم ہوس سراپا
جسے سمجھتے تھے جسم خاکي ، غبار تھا کوئے آرزو کا
اگر کوئي شے نہيں ہے پنہاں تو کيوں سراپا تلاش ہوں ميں
نگہ کو نظارے کي تمنا ہے، دل کو سودا ہے جستجو کا
چمن ميں گلچيں سے غنچہ کہتا تھا ، اتنا بيدرد کيوں ہے انساں
تري نگاہوں ميں ہے تبسم شکستہ ہونا مرے سبو کا
رياض ہستي کے ذرے ذرے سے ہے محبت کا جلوہ پيدا
حقيقت گل کو تو جو سمجھے تو يہ بھي پيماں ہے رنگ و بو کا
تمام مضموں مرے پرانے ، کلام ميرا خطا سراپا
ہنر کوئي ديکھتا ہے مجھ ميں تو عيب ہے ميرے عيب جو کا
سپاس شرط ادب ہے ورنہ کرم ترا ہے ستم سے بڑھ کر
ذرا سا اک دل ديا ہے ، وہ بھي فريب خوردہ ہے آرزو کا
کمال وحدت عياں ہے ايسا کہ نوک نشتر سے تو جو چھيڑے
يقيں ہے مجھ کو گرے رگ گل سے قطرہ انسان کے لہو کا
گيا ہے تقليد کا زمانہ ، مجاز رخت سفر اٹھائے
ہوئي حقيقت ہي جب نماياں تو کس کو يارا ہے گفتگو کا
جو گھر سے اقبال دور ہوں ميں ، تو ہوں نہ محزوں عزيز ميرے
مثال گوہر وطن کي فرقت کمال ہے ميري آبرو کا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا